Urdu Content

سرائیکی زبان کے رومی "حضرت خواجہ غلام فرید"

سرائیکی زبان کے رومی "حضرت خواجہ غلام فرید"

برصغیر کے نامور صوفی شاعر حضرت خواجہ غلام فرید 25نومبر 1845کو (بمطابق 5ربیع الثانی )چاچڑاں شریف ریاست بہاولپور میں خواجہ خدا بخش عرف محبوب الہی کے ہاں پیدا ہوئے ۔آپ کے آباؤ اجداد فاتحین سندھ کے ساتھ عرب سے سندھ میں داخل ہو ئے تھے ۔آپ کے خاندان کے ایک مرید مٹھن خان کے نام سے کوٹ مٹھن کے نام سے ایک قصبہ آباد ہوا اور آپ کے اجداد سے پہلے وہاں سکونت اختیار کی پھر چاچڑاں شریف منتقل ہوگئے ۔آ پ کی پیدائش

حِرص۔۔۔

حِرص۔۔۔

”اماں یہ مرچکا ہے تم اس کو اب لے کر آرہی ہو"۔" نہ ڈاکٹر صاحبہ! ایہہ ساہ گھِندا پیا اے۔ تُساں ایکوں ڈیکھو تاں سہی"۔

دہرا معیار کیوں؟

دہرا معیار کیوں؟

ہماری دنیا کے "سوکالڈ"تہذیب یافتہ لوگوں کو تہذیب کا پرچار کرتے دیکھ میں نے ایک بات محسوس کی ہے کہ ایسے لوگ بڑے منافق ہوتے ہیں ۔ہم صرف کہانیوں کی حد تک زندگی کو آئیڈیل دیکھنا چاہتے ہیں  لیکن حقیقی زندگی میں اگر کوئی ہمیں یہ موقع دے تو ہم اسے پہلی فرصت میں "رد"  کر دیتے ہیں ۔

ہوں گر ہزاروں جانیں تو بھی کروں تجھ پہ نثا ر

ہوں گر ہزاروں جانیں تو بھی کروں تجھ پہ نثا ر

"دادا جان! مجھے دعا کرنا نہیں آتا"۔۔۔ جائے نماز پہ چپک کے بیٹھے سات سال کے بچے نے معصومیت سے کہا۔"چلو اس میں کیا مشکل ہے۔ آج سے تم اللہ سے یہ دعا مانگا کرو "یا اللہ میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاکدامنی اور(لوگوں سے) بے نیاز ہونے کا سوال کرتا ہوں"۔

سیاست زندگی ہے!

سیاست زندگی ہے!

ایک باشعور ترقی یافتہ معاشرے میں اگر اس بات کا سروے کرایا جائے تو ہر شخص اس بات سے اتفاق کرے گا کہ" عوام کے حق میں بدترین جمہوریت بھی بہتر ہے "۔لیکن اگر ہم اپنے تعلیمی اداروں میں سب سے بڑے ادارے"یونیورسٹی" کے طلباء جو کہ باقیوں کی نسبت زیادہ پڑھے لکھے اور باشعور ہوتے ہیں میں یہ سروے کرائیں تو 90فیصد لوگ اس سے اتفاق نہیں کریں گے۔

ذوق مطالعہ کی ضرورت

ذوق مطالعہ کی ضرورت

سترہ جون 2020 کو گوگل نے رپورٹ جاری کی ہے کہ پاکستان میں کرونا کے دنوں ای مارکیٹ ایک ارب ڈالر تک پہنچ گئی جس میں کھانوں کی ترکیب ورزش کے طریقے شامل ہیں اور سعید بک بینک اسلام آباد کے مالک احمد سعید نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ کرونا کے دوران پاکستان میں 75 فیصد کتابیں پڑھنے اور خریدنے میں کمی ہوئی ہے جبکہ واشنگٹن ڈی سی کی پبلک لائبریری سے کتابیں جاری کروانے والوں کی تعداد میں 37 فی صد اضافہ ہوا ہے

حقیقی استاد

حقیقی استاد

کسی بھی  معاشرے کا علمی ، ادبی اور شعوری چہرہ  استاد ہی ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر کسی معاشرے کے مستقبل کا تعین کرنا ہو تو آپ اس معاشرے کے نظام تعلیم اور اساتذہ کو دیکھ لیں۔ اس بات کا مطلب سادہ ہے کہ نظام تعلیم اور استاد مل کر ہی وہ ہنر مند اور با صلاحیت لوگ تیار کرتے ہیں جو کسی بھی ریاست کا نظام چلانے کے لئے ضروری ہوتےہیں۔ اگر استاداپنے کام پر  توجہ دینا چھوڑ دے تو کبھی بھی قابل لوگ پیدا نہیں ہو

ترکِ دنیا قوم کو اپنی نہ سِکھلانا کہیں

ترکِ دنیا قوم کو اپنی نہ سِکھلانا کہیں

موضوعِ تحریر بظاہر تو اقبال کی ایک نظم کا چھوٹا سا مصرع ہے۔ مگر یہ چند الفاظ اس خوفناک سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے مسلمان آج پستیوں کا شکار ہیں۔ذرا تاریخ کے اوراق پلٹئے اور آج سے چند صدی قبل کا منظر نامہ ملاحظہ فرمائیے ! جب مسلم تہذیب اپنے بام عروج پر تھی۔ آپ کو ایک شاندار ماضی ملے گا جس میں آپکو جہاں علم دین کے جبال العلم  علماء ملیں گے وہیں سائنسی علوم و فنون اور فنون لطیفہ کے اپنے وقت ک

سٹیٹس اپڈیٹ

سٹیٹس اپڈیٹ

میں اپنے کام میں مصروف تھا کہ میرے موبائل فون نے مختصر گھنٹی کے ذریعے اطلاع دی کہ آپ کام کرنا چھوڑیں اور ادھر توجہ فرما ئیں آپ کے لئے ایک پیغام ہے۔ میں نے بغیر کسی حیل و حجت کے موبائل کا حکم مانا اور پیغام پڑھنا شروع کر دیا۔ لاہور سے میرے ایک دوست نے اپنی شادی کا کارڈ وٹس ایپ پر مجھے بھیجا تھا اور ساتھ ہی شادی کی تقریب میں شریک ہونے کی پرزور اپیل کی تھی۔

پاکستانی معیشت اور جدید سائنسی علوم

پاکستانی معیشت اور جدید سائنسی علوم

خُداوندِ کریم نے انسان کو " اشرف المخلوقات " کا درجہ دیا ہے اور اُسے عقل و شعور سے نوازا تاکہ وہ حق و باطل اور اچھے بُرے میں تمیز کر سکے۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے اللہ تعالٰی نے تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا اور آپنی آخری الہامی کتاب قرآن مجید کی پہلی آیت بھی حصولِ علم کے متعلق تھی۔"اپنے رب کے نام سے پڑھئے جس نے پیدا فرمایا"۔ علم کے بغیر انسان وہ منازلِ طے نہیں کر سکتا ہے جو

عرب ریڈنگ چیلنج

عرب ریڈنگ چیلنج

کسی قوم کی تعمیر و ترقی میں لیڈر کا کردار بڑا اہم ہوتا ہے۔لیڈر نہ صرف قوم کو مسائل کے حل کے لئے ایک لائن آف ایکشن فراہم کرتا ہے بلکہ اپنی بصیرت ، دانائی اور قوت فیصلہ کو برؤے کار لاتے ہوئے قوم کی ایک روشن مستقبل کی طرف راہ بھی ہموار کرتا ہے۔ایک لیڈر کے لئے ضروری ہے کہ اسے تاریخ کا شعور اور دنیا میں آنے والی سیاسی ، معاشی اور سماجی تبدیلیوں کا گہرا ادراک ہوکیونکہ ان صلاحیتوں کے بغیر مسائل کا دیر پا

میرا کشمیر

میرا کشمیر

یہاں پر پھول کهلتے تھے۔میں نے دیکھا کہ شفق پر یہاں مسکراہٹوں کا جلوہ  تھا۔منظر یوں بدل گیا کہ سب ختم ہو گیا۔۔۔اب میں دیکهتى ہوں کہ دشمن نے میرے کشمیر کو گهیرا ہے۔یہاں پر ظلم و بربریت ہے۔یہاں کى درسگاہوں کو قتل گاه بنایا جا رہا ہے۔